اپنا گھر کسے کہیں؟‎

ہمارے ہاں ایک روایت ہے۔ لڑکیوں کو شروع سے سکھایا پڑھایا جاتا ہے کہ اپنی خوشیوں کو مقفل رکھا جائے۔ کہیں سیر کو جانا چاہیں یا زرق برق لباس پہننا چاہیں یہی کہہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے کہ جو کرنا ہے ‘اپنے گھر’ جا کر کرنا۔ اپنے کمرے کو سجانا بنانا ہو تو اس میں بھی یہی عذر سامنے رکھا جاتا ہے۔بچپن سے ہی جہیز یوں جمع کیا جاتا ہے کہ جیسے اگلے گھر میں تو سب شاید بغیر برتنوں کے کھانا کھاتے ہیں۔ جہیز کے برتنوں کے بغیر گزارا نہیں کر پائیں گے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں لڑکیوں کو بچپن سے ہی دلہن بننے کا شوق ہوتا ہے۔ شادی کا دن ان کے لیے سپنوں کی تکمیل کا اعلان ہوتا ہے۔ بہت سی لڑکیوں کو تو اس بات سے بھی سروکار نہیں ہوتا کہ شادی کے بعد کی زندگی کیسی ہو گی۔ بس اس دن سے غرض مطلب ہوتی ہے جب سب کی توجہ لال جوڑے میں ملبوس دلہن کی طرف ہی ہوتی ہے۔ ڈھیر سارے جوڑے بنائے جاتے ہیں۔ سب بلائیں لیتے ہیں۔ ڈھیر سارا میک اپ اور سلسمیاں ملتی ہیں۔ دلہا کن اکھیوں سے دلہن کی طرف دیکھتا ہے۔ ہر کسی کو بس یہی چاو ہوتا ہے کہ نئی دلہن کو دیکھ لے۔ اس کے ساتھ والے صوفے پر چڑھ کے تصویر اتروا لے۔
ہر لڑکی کے ارمان شادی سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ان ہی ارمانوں میں ایک ارمان اپنے گھر کا بھی ہوتا ہے۔ بیس پچیس سال جس گھر میں رہی وہ کس کا تھا؟ خدا جانے۔
وہ ‘اپنا’ گھر جس کا بچپن سے اپنا دکھایا جاتا ہے قدم رکھتے ہی احساس دلانے لگتا ہے کہ آنے والا نیا مقیم کتنے پانی میں ہے۔ اس کی کیا اوقات ہے، کیا وقعت ہے۔ یہ گھر ‘کس’ کا ہے، یہاں کس کے ہاتھ میں گھر کو گھر بنانے کا اختیار ہے۔ یہیں آ کر یہ احساس بھی اجاگر ہوتا ہے کہ اپنا گھر تو وہی تھا جہاں ایک اور گھر کا سپنا دکھایا گیا۔ جہاں کہا گیا کہ اگلا گھر ‘اپنا’ ہو گا۔
یہی وجہ تھی کہ آج جی میں آئی سب سے پوچھیں کہ آخر اپنا گھر کہتے کسے ہیں۔ یہ ایک احساس کا نام ہے یا چار دیواری کا؟ گھر ایک فرد سے وابستہ یے یا اس احساس سے کہ یہاں سے کوئی اسے بے دخل نہیں کر سکتا؟ بہت سے جواب آئے جن میں ایک جواب یہ بھی تھا کہ اپنا گھر وہی ہے جہاں جانے کا دل چاہے۔ جہاں کا سوچ کر پیروں تلے زمین نکل جائے وہ اپنا گھر نہیں۔ جہاں ناز نخرے اٹھائے جائیں اور اپنی مرضی سے سونے جاگنے کی آزادی ہو۔ جہاں کسی مہمان کو بلانے سے پہلے سو بار سوچنا نہ پڑے۔ جہاں سکون ہو۔ جہاں پوری دنیا سے بھاگ کر کھو جانے کو دل چاہے۔ جہاں ماں ہو۔
جہاں یہ سب نہیں وہ اپنا گھر نہیں۔ لہذا مودبانہ گزارش ہے کہ اپنی بیٹیوں کو ‘اپنے گھر’ کے سب  باغ دکھانا بند کریں۔ جہاں ہیں ان کو وہی گھر ان کا اپنا بنا کر دکھائیں۔ خوابوں کا شیش محل ٹوٹے تو سب سے پہلی ٹھیس دل پر لگتی ہے۔  اگر ماں باپ کا گھر اپنا نہ ہوتا تو میکے جانا کسی بھی لڑکی کے لیے سب سے بڑی خوشی نہ ہوتا۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *